اذان میں کلمہ شہادت اشھد ان محمدا الرسول اللہ علیہ وسلم سن کر انگوٹھے چومنا آ نکھوں سے لگانا کیسا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  

 اذان میں کلمہ شہادت:  اشھد ان محمد الرسول اللہ،  سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا کیسا؟
جواب : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک اذان میں سن کر انگوٹھے چومنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، 
دلائل وافرہ درج ذیل 
1, جس چیز پر شریعت کی ممانعت وارد نہ ہو  اس کی اصل جواز ہے وہ جائز ہوتی ہے
 2,  اس پر سلف صالحین کا عمل  ہے،
  خلیفہ اول سیدناصدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ  
 امام حسن رضی اللہ عنہ
 امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
 سے یہ بات ثابت ہے  
اور امام علامہ شمس الدین سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمایا ہے اسی طرح جامع الرموزشرح نقایہ فتاویٰ صوفیہ وغیرہ میں یہ بات نقل کی گئی ہے
 اور بعض محدثین نے حدیث کو ذکر کرنے کے بعد یہ فرمایا بیان کردہ احادیث میں کوئی بھی حدیث درجہ صحت پر فائز نہیں ہے مولانا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے موضوعات کبیرہ میں فرمایا اس بارے میں جو بھی روایت بیان کی گئی ہے ان کا مرفوع ہونا حتمی صحیح نہیں، 
علامہ اسماعیل رحمہ اللّٰہ علیہ نے فرمایا بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ہے، 
 اصطلاح محدثین میں صحیح کی نفی سےحسن کی نفی نہیں ہوتی ہے یعنی کہ محدثین اگر کسی حدیث کی صحت کی نفی کر دیں تو یہ بات ضروری نہیں کہ وہ حدیث موضوع ہو جائے بلکہ حسن بھی ہو سکتی ہے اسی طرح  جس حدیث سے محدثین صحت کی نفی کر دیں تو اس سے وضع کا حکم لگاناصحیح نہیں ہے،
 3, تیسری دلیل فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی بالاجماع قبول ہے پھر دوسرا یہ کہ اس پر عمل کرنے میں شریعت کے کسی حکم کا ازالہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی کسی سنت کے خلاف ہے،
 لہذا اس پر عمل کیا جائے گا اورملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی اس فعل کا ثبوت ہے اور اس اس فعل کا ثبوت عمل کو بس ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اور اپنے خلفائے راشدین کی سنت،
اسی طرح امام سخاوی نے المقاصد الحسنہ فی الاحادیث الدائرۃ علی السنۃ میں فرماتے ہیں کہ موذن سے اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر انگشتان شہادت کے پورے جانب باطن سے چوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ دعا پڑھنا اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت باللہ ربا و الاسلام دینا و بمحمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبیا اس حدیث کو دیلمی نے مسند الفردوس میں حدیث سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب اس جناب نے اشھد ان محمدا رسول اللہ کہتے سنا یہ دعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے جانب زیریں سے چوم کر آنکھوں سے لگائے اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے اور یہ حدیث اس درجے کو نہ پہنچی جسے محدثین اپنی اصطلاح میں درجہ صحت نام رکھتے ہیں اس طرح  اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے تقریبا دس دلائل دیے ہیں یہ پہلی دلیل تھی، مزید دلائل اس کے شرح نقایہ میں ہے، 
 خبردار ہو! بے شک مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی بار اشھد ان محمدا رسول اللہ سنےصلی اللہ علیک یا رسول اللہ کہے اور دوسری بار قرة عینی بک یا رسول اللہ پھر انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر کہے اللھم متعنی بالسمع والبصر،  تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے ایسا ہی کنزالعباد میں بھی ہے پھر یہ کہ علامہ مولانا محمد طاہر فتنی علیہ الرحمہ تکملہ مجمع بحار الانوار میں حدیث کو صرف لا یصح  فرما کر لکھتے ہیں اس کے تجربہ کی روایت بکثرت آئی ہے یعنی کہ یہ حدیث اگر صحیح نہیں ہے لیکن محدثین کے اس پر تجربات کی روایت آئی ہے ہیں.
 مکمل دلیل( منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین) میں نظر فرمائیں

محمد مہتاب رضا 
جامعة المدينة احمد آباد گجرات

Comments